ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی آئندہ چند برسوں میں عالمی معیشت کیلئے ایک بڑا اور پیچیدہ چیلنج بن سکتی ہے، اور 2028 تک اس کے اثرات نمایاں صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر معاشی پالیسیوں میں بروقت تبدیلیاں نہ کی گئیں تو یہ پیش رفت معیشت کیلئے غیر متوقع دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
تحقیقی ادارے سیٹرینی ریسرچ کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کی بدولت کمپنیوں کے منافع اور مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے، تاہم اس کے ساتھ بے روزگاری کی شرح بھی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی نمو میں اضافہ تو ہوگا، لیکن روزگار کے مواقع میں نمایاں کمی کا خدشہ بھی موجود ہے۔
’دی 2028 گلوبل انٹیلیجنس کرائسز‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس رپورٹ کو تجزیہ کار الفا شاہ نے مرتب کیا ہے، جس میں مستقبل کے ممکنہ عالمی معاشی منظرنامے کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں ایک ایسے ممکنہ منظرنامے کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں مصنوعی ذہانت دفتری اور پیشہ ورانہ نوعیت کی ملازمتوں کا بڑا حصہ سنبھال لے گی۔ ان شعبوں میں کمپیوٹر پروگرامنگ، مالیاتی تجزیہ اور صارفین کی معاونت جیسی ذمہ داریاں شامل ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمتوں کے خاتمے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق بے روزگاری کی شرح 10 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے، جبکہ امریکی حصص بازار کا اہم اشاریہ 500 اپنی بلند ترین سطح سے تقریباً 40 فیصد تک گر سکتا ہے، جو عالمی مالیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں ’گھوسٹ جی ڈی پی‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی گئی ہے، جس سے مراد ایسی معاشی نمو ہے جس میں پیداوار تو بڑھتی ہے مگر آمدنی کا بڑا حصہ سرمایہ دار طبقے تک محدود رہتا ہے اور عام صارفین کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔
رپورٹ میں مزید وضاحت کی گئی ہے کہ امریکا میں جہاں صارفین کا خرچ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد بنتا ہے، وہاں آمدنی کے اس عدم توازن کے باعث شدید معاشی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے اور مجموعی معاشی سرگرمی متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ نجی قرضہ جاتی منڈیاں، خصوصاً سافٹ ویئر کمپنیوں سے منسلک قرضے، اور 13 کھرب ڈالر مالیت کی امریکی رہن شدہ جائیدادوں کی منڈی بھی خطرے کی زد میں آ سکتی ہے، جس سے مالیاتی استحکام کو دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔
تحقیقی ادارے کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں بلکہ اس کی غیر معمولی کامیابی ہو سکتی ہے، اور اگر حکومتیں ٹیکس نظام اور معاشی ڈھانچوں میں بروقت اصلاحات متعارف نہ کرا سکیں تو ممکنہ بحران مزید گہرا اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔