اسلام آباد: عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کو پارلیمنٹ حملہ کیس میں بری کر دیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے وزیر اعظم عمران خان کی پارلیمنٹ حملہ کیس میں بریت کی درخواست منظور کر لی۔ عدالت نے درخواست پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر رکھا تھا۔
وزیراعظم عمران خان کے وکیل نے بریت کی درخواست پر تحریری دلائل جمع کراتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ وزیر اعظم کو جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں پھنسایا گیا ہے اور ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں نہ ہی کسی گواہ نے ان کے خلاف بیان دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی مقدمہ ہے جس میں سزا کا کوئی امکان نہیں، اس لیے وزیر اعظم کو بری کیا جائے۔
پراسیکیوٹر نے عمران خان کے وزیراعظم بننے سے قبل درخواست کی مخالفت کی تھی جبکہ وزیراعظم بننے کے بعد حمایت کر دی اور کہا کہ اگر عمران خان کو بری کر دیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں کیونکہ یہ سیاسی طور پر بنایا گیا مقدمہ ہے جس سے کچھ نہیں نکلنا اور صرف عدالت کا وقت ضائع ہو گا۔
خیال رہے کہ عمران خان اس مقدمہ میں اشتہاری رہ چکے ہیں اور اس وقت ضمانت پر ہیں۔ صدر مملکت عارف علوی، وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر عبدالعلیم خان اور جہانگیر ترین بھی مقدمہ میں ملزم نامزد ہیں۔
واضح رہے کہ 2014 میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے دھرنے کے دوران مشتعل افراد نے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بولا تھا۔
حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں تقریباً 70 افراد کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں پارلیمنٹ ہاؤس، پی ٹی وی اور سرکاری املاک پر حملوں اور کار سرکار میں مداخلت کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں انسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات بھی شامل ہیں۔