کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث شہر بھر میں معمولات زندگی شدید متاثر ہو گئے ہیں اور شہریوں کو سفری مشکلات کا سامنا ہے۔
پبلک ٹرانسپورٹ بند ہونے کے باعث ہزاروں شہری دفاتر، فیکٹریوں اور دیگر کام کی جگہوں تک پہنچنے کیلئے پیدل چلنے یا متبادل ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔
ہڑتال کے باعث جناح اسپتال، سول اسپتال اور دیگر طبی مراکز جانے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دوسری جانب عوامی ٹرانسپورٹ کی بندش کے نتیجے میں آن لائن سفری خدمات اور چنگچی رکشوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے باعث کرایوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ محدود سفری سہولیات کی وجہ سے روزمرہ کے اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ ملازمین اور طلبہ بھی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
اب تک سندھ حکومت کی جانب سے ہڑتال ختم کرانے کیلئے کوئی مؤثر پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
یاد رہے کہ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے برقی چالان، بھاری جرمانوں اور دیگر مطالبات کے حق میں ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر حاجی تواب خان کے مطابق صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران ڈیڈ لاک برقرار رہا، جس کے باعث عوامی ٹرانسپورٹ سروس معطل رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ ان کے مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔





















































































