امریکا اور ایران نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر مقررہ وقت سے پہلے دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس موقع کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں صدر ٹرمپ معاہدے سے متعلق دستاویزات پر دستخط کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تصاویر جاری کی ہیں جن میں وہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق معاہدے کا مقصد خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، فوجی تصادم کو روکنا، آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی بحالی اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے اور باہمی اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
اس پیش رفت کو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری بھی اس معاہدے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔





















































































