ایرانی پارلیمانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول ادا کرنا ہوگا، اور اس حوالے سے ایک منظم اور جامع پالیسی ترتیب دی جا رہی ہے تاکہ اس اہم بحری راستے پر نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ ایرانی حکومت قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول اور بہتر مینجمنٹ کا نظام قائم کرے گی، جس کے ذریعے نہ صرف سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ بحری آمد و رفت کو بھی منظم انداز میں چلایا جائے گا۔
ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ ایران امریکیوں پر اعتماد نہیں کر سکتا، اس لیے اس حوالے سے تمام پالیسیاں قومی مفادات کے مطابق تشکیل دی جائیں گی تاکہ ملکی خودمختاری اور سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب ایران میں آئل ریفائننگ کے شعبے کی بحالی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے، اور حکام کو امید ہے کہ آئندہ دو ماہ کے اندر اندر تقریباً 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال کر لی جائے گی، جس سے توانائی کے شعبے میں بہتری متوقع ہے۔