ایران نے امریکی حملوں کے بعد بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں موجود متعدد امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی فوجی کمان کے مرکز خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ بیان کے مطابق ایران نے خطے میں موجود بعض امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور اگر حملے جاری رہے تو اس سے بھی سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق امریکی حملوں کے نتیجے میں جنوبی ایران کے علاقے سیریک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا جبکہ دو آبی ذخائر بھی تباہ ہوئے۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ جواباً بحرین میں تعینات امریکی بحری بیڑے کے مرکز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی موجودگی اور حملوں کے خلاف دفاعی اقدامات جاری رہیں گے۔
دوسری جانب روسی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جم کے علاقے میں امریکا کے ایک بغیر پائلٹ طیارے کو مار گرایا ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں واقع امریکی الازرق فوجی اڈے پر بھی میزائل حملہ کیا۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ اس کارروائی میں چار اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں لڑاکا طیاروں کے ہینگر اور کمانڈ سینٹر شامل تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ حملے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ کویت میں واقع علی السالم فوجی اڈے پر بھی ڈرون حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ادھر کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملکی فضائی دفاعی نظام ممکنہ حملوں کا مقابلہ کرنے اور فضائی حدود کی نگرانی میں مصروف ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، جبکہ عالمی برادری فریقین سے تحمل اور مزید تصادم سے گریز کی اپیل کر رہی ہے۔






















































































