امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے، طبی عملہ اور عسکری سازوسامان بھیجنا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی صورت میں مزید فوجی آپشنز فراہم کرنا ہے۔
امریکی اخبار نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز اپنے ملکی اڈوں سے مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور بعض امریکی حکام بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں کے متعدد اسکواڈرن بھی مشرقِ وسطیٰ کے مختلف مقامات پر تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ امریکا اور برطانیہ کے فوجی اڈوں پر موجود بمبار طیاروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائیوں میں تیزی لائی جا سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو “بڑی قیمت” چکانا پڑے گی اور حملے جاری رہیں گے۔
واضح رہے کہ فوجی تعیناتی اور ممکنہ کارروائی سے متعلق تفصیلات امریکی اخبار اور ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہیں، جبکہ ان تمام معلومات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔



















































































