امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران امریکی اسلحے اور گولہ بارود کی قلت سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اسلحہ موجود ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ ذخیرہ ہے بلکہ اس کی ضرورت سے بھی کہیں زیادہ ہتھیار موجود ہیں۔
اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے وائٹ ہاؤس کو فضائی دفاع میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں کمی سے آگاہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنرل ڈین کین نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی گئیں تو امریکی فوج کے میزائل ذخائر خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں ایک نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران پر حملوں کے نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے ہیں، کیونکہ ان کارروائیوں نے ایران کے اندرونی اتحاد کو مضبوط کیا اور ایرانی قیادت کو بیرونی خطرات پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع فراہم کیا۔
امریکی حکومت کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ طور پر کوئی اضافی مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے اسلحے کی قلت سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔


















































































