صوبہ بلوچستان کی گوادر بندرگاہ پر بحری تجارتی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کی سہولت کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن اور ایک نجی بین الاقوامی کمپنی کے تعاون سے ملکی آئل ریفائنری میں تیار کردہ ایندھن کامیابی کے ساتھ ایک بحری تجارتی جہاز کو فراہم کیا گیا۔
گوادر بندرگاہ پر پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ بحری جہاز کو ایندھن کی فراہمی کا عمل کامیابی سے مکمل کیا، جس کے بعد ملک اب اپنی تینوں بڑی تجارتی بندرگاہوں سے بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کی سہولت مہیا کر رہا ہے۔
اس تاریخی عمل کے دوران غیر ملکی مائع قدرتی گیس بردار جہاز “ایل این جی اینوگو” کو بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مقرر کردہ معیار کے مطابق تیار کردہ انتہائی کم سلفر والے بحری ایندھن کے 2,500 میٹرک ٹن فراہم کیے گئے۔
یہ بحری ایندھن ملکی آئل ریفائنری “سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ” میں تیار کیا گیا، جبکہ ایندھن کی فراہمی کا عمل عالمی توانائی کمپنی “وائٹول” نے اپنی بحری ایندھن بردار کشتی “میرین اِسٹا” کے ذریعے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے تعاون سے مکمل کیا۔
اس اہم پیشرفت کے ساتھ پاکستان نے باضابطہ طور پر اپنی تینوں تجارتی بندرگاہوں پر بین الاقوامی معیار کے مطابق بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کا مکمل نظام قائم کر لیا ہے۔ اس کامیابی کے بعد پاکستان بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کے حوالے سے فجیرہ اور سنگاپور جیسے علاقائی مراکز کے معیار کی سہولت فراہم کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔
چالیس برس بعد یہ ایک اہم سنگِ میل ہے کہ گوادر بندرگاہ پر پہلی مرتبہ بحری تجارتی جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کی سہولت فراہم کی گئی۔
پاکستان کی تینوں تجارتی بندرگاہوں پر پاکستان سنگل ونڈو نظام کے تحت برقی کسٹمز قواعد کے مطابق بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کا ایک معیاری، مربوط اور بین الاقوامی طور پر تصدیق شدہ نظام فعال ہو چکا ہے۔
پاکستان کا قومی بحری ایندھن فراہمی کا نظام عالمی توانائی کمپنی “وائٹول بنکرز”، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن اور مقامی آئل ریفائنری “سینرجیکو پاکستان لمیٹڈ” کے باہمی تعاون سے قائم مربوط نظام کے تحت کام کر رہا ہے۔
یہ کامیاب عمل اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ پہلی مرتبہ گوادر بندرگاہ پر سمندر میں سفر کرنے والے کسی تجارتی بحری جہاز کو ایندھن فراہم کیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کی بحری ایندھن فراہمی کی استعداد کراچی اور پورٹ قاسم سے بڑھ کر گوادر تک وسیع ہو گئی ہے۔ یہ کامیابی ملک کے بحری اور تجارتی شعبے کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔























































































