امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ امریکی صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے حملوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔
سینٹکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی پاسداران انقلاب کی جانب سے قبرص کے پرچم بردار ایک کنٹینر بردار تجارتی جہاز پر حملے کے بعد کی گئی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملے کے بعد جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتہ ہوگیا، جبکہ جہاز میں آگ لگنے اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث وہ اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے اس سے قبل بھی ایران کو تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد اپنا طرز عمل تبدیل کرنے اور مفاہمتی یادداشت پر عمل کرنے کا موقع دیا تھا، تاہم ایران ایک بار پھر اس میں ناکام رہا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف یہ حملے امریکی صدر کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی نے بتایا کہ عمان سے 9 ناٹیکل میل مشرق میں ایک بحری واقعے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کو تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ ایک بحری جہاز نے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی، جس پر انتباہی فائرنگ کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ آئندہ اطلاع تک کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر دشمن نے اس واقعے کو بہانہ بنا کر کسی قسم کی کارروائی کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔























































































