امریکا اور ایران کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں میں تاحال کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، تاہم اس عمل سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان، مصر اور ترکیے کے وزرائے خارجہ اعتماد سازی پر مبنی ایک پیکج تیار کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایسا پیکج تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کا باعث بن سکے اور فریقین کے درمیان براہ راست ملاقات کے امکانات کو بڑھا سکے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے گزشتہ روز اس معاملے پر امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، تاہم اس گفتگو کے باوجود ایسے کسی پیکج پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا جو ڈیڈ لائن میں توسیع اور مذاکرات میں پیش رفت کو ممکن بنا سکے۔
دوسری جانب ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی مخصوص ٹائم لائن دینا ممکن نہیں، تاہم اگر ایران نے منگل کی شام تک آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ تفصیلی مذاکرات جاری ہیں اور ان کی مقرر کردہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔