امریکی صدر کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے بھی آبنائے ہرمز کو تمام ممالک کے لیے دو ہفتوں کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قومی سلامتی کونسل کے منظور شدہ بیان کے حوالے سے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے بھرپور اور مسلسل سفارتی کوششیں کیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران نے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل اور 15 نکاتی تجاویز کے تناظر میں امریکا کی جانب سے مذاکرات کی درخواست قبول کر لی ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی 10 نکاتی تجاویز پر ایک عمومی فریم ورک پر اتفاق بھی کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بنیاد پر ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے مطابق اگر ایران پر حملے روک دیے جاتے ہیں تو ایران کی مسلح افواج بھی اپنی دفاعی کارروائیاں بند کر دیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید بتایا کہ ایرانی فوج کے ساتھ رابطے کی صورت میں آبنائے ہرمز سے دو ہفتوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا، تاہم اس ضمن میں بعض تکنیکی امور کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔