اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لبنان سے متعلق امریکی مطالبات منوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اہلیہ سارہ نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا۔
اسرائیلی کاروباری شخصیت رونی مانی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سارہ نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان سے متعلق امریکی مؤقف قبول نہ کیا گیا تو نیتن یاہو کو قانونی مشکلات، ان کے بیٹے یائر نیتن یاہو کو امریکا سے بے دخلی اور خاندان کے امریکی اثاثوں کو منجمد کیے جانے جیسے اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رونی مانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو خاندان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر مستقبل میں انہیں سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو امریکا میں پناہ دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ سارہ نیتن یاہو نے امریکی صدر سے اتفاق کرتے ہوئے بعد ازاں بنیامین نیتن یاہو پر لبنان سے متعلق امریکی مؤقف قبول کرنے کے لیے زور دیا، جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے ٹرمپ سے رابطہ کیا اور امریکی مؤقف سے اتفاق کیا۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ نہ ہی امریکی انتظامیہ اور نہ ہی اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوتی، انہیں غیر مصدقہ اطلاعات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔























































































