ایرانی وزارت خارجہ کے ترجماناسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابھی تک کسی معاہدے کو حتمی شکل نہیں دی گئی۔
اپنے بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کی تاریخ یا مقام سے متعلق گردش کرنے والی خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں، اگرچہ مذاکراتی متن کا بڑا حصہ تیار ہو چکا ہے، تاہم امریکا بار بار اپنا مؤقف تبدیل کرتا رہا ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ قطر اور پاکستان ثالثی کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور دونوں ممالک سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض امریکی اقدامات سفارتی عمل کو متاثر کر رہے ہیں، تاہم ایران اپنی بنیادی شرائط اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور جلد دستخط متوقع ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ ایرانی قیادت معاہدے پر رضامند ہے اور معاہدے کی منظوری دی جا چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کی جانب سے تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور ممکنہ معاہدے سے متعلق مختلف دعوے اور اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔























































































