حج 2027 کیلئے رجسٹریشن کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ وزارت مذہبی امور نے سرکاری اور نجی دونوں حج اسکیموں سے متعلق اہم تفصیلات بھی جاری کر دی ہیں۔
حج رجسٹریشن 2027 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ قومی معلوماتی ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے حج نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جا رہا ہے تاکہ شفافیت اور سہولت میں اضافہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ حج 2027 کی رجسٹریشن مکمل طور پر مفت ہوگی اور کسی بھی درخواست گزار سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق رجسٹریشن “پہلے آئیے، پہلے پائیے” کی بنیاد پر کی جائے گی، جبکہ سرکاری اور نجی دونوں حج اسکیموں میں شرکت کیلئے رجسٹریشن لازمی ہوگی۔ رجسٹریشن کے بغیر کوئی شخص حج کیلئے درخواست جمع نہیں کرا سکے گا۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ حج 2027 کیلئے کارآمد پاسپورٹ لازمی ہوگا اور پاسپورٹ کی میعاد کم از کم 26 نومبر 2027 تک ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ہی خاندان کے افراد مشترکہ رجسٹریشن کرا سکیں گے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی دنیا کے کسی بھی ملک سے اپنی رجسٹریشن مکمل کروا سکیں گے۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق رجسٹریشن ملک بھر کے نامزد بینکوں کے ذریعے کرائی جا سکے گی، جبکہ آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد عازمین سرکاری یا نجی حج اسکیم کا انتخاب کر سکیں گے۔
حج 2026 کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال پاکستانی عازمین حج کیلئے کیے گئے انتظامات سے انتہائی مطمئن رہے اور شکایات کی شرح ایک فیصد سے بھی کم رہی۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور سے “روڈ ٹو مکہ” منصوبے کے تحت تقریباً 80 فیصد پاکستانی عازمین کو سہولت فراہم کی گئی۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ وزارت رواں سال حج کرنے والے پاکستانی عازمین کو بچ جانے والی رقم میں سے جزوی واپسی دینے کے تخمینے پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مسلم آبادی 23 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، اس لیے سعودی حکام سے حج کوٹہ بڑھانے کیلئے مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان کم از کم 2 لاکھ 30 ہزار عازمین کا کوٹہ چاہتا ہے۔





















































































