وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے معاملے کو بلاوجہ اچھالا جا رہا ہے اور اسے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس معاملے کو نان ایشو سے ایشو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر انسان اپنے قول و فعل کا خود ذمہ دار ہے، جبکہ بعض عناصر مخصوص مقصد کے تحت اس معاملے کو اچھال رہے ہیں۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق غیر ملکی خواتین کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ ہو چکا ہے اور تفتیشی ادارے کے پاس کیس کے مکمل شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقدمہ چلانے کے لیے مزید کسی چیز کی ضرورت نہیں، دفعہ 164 کا بیان ملزمان کو سزا دلانے کے لیے کافی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر غیر ملکی خواتین کو دوبارہ بلایا جا سکتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے فیصل واوڈا کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے استعفے کے مطالبے کو انتہائی بے بنیاد قرار دیا۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق لاہور میں غیر ملکی لڑکیوں کی تلاش کے دوران ملزم کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا، جس کے بعد لڑکیاں گاڑی سے نکل کر قریبی اسٹور میں چلی گئیں اور اسی دوران پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزم فرار ہو گیا جبکہ لڑکیوں کو تحویل میں لے لیا گیا۔ اس کیس میں اب تک 8 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔




















































































