ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پر مکمل عمل درآمد ہونے تک ایران مزید مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جانب سے جاری موجودہ ملاقاتوں کا مقصد صرف مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مفاہمت کے تحت لبنان، ایران اور امریکا کی شمولیت سے لبنان میں جنگ بندی اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق آبنائے ہرمز سے بغیر کسی اضافی لاگت کے گزرنے کی اجازت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، تاہم ایران آبنائے ہرمز میں اپنے خودمختار حقوق پر کبھی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ایران اور عمان کی ہے، جبکہ اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت انہی انتظامات کے مطابق ہوگی جو ایران مقرر کرے گا۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایران 40 ملین سے زائد بیرل تیل برآمد کر چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا مستقبل میں ایران کو تیل فروخت کرنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر عالمی توانائی منڈی میں کسی بھی ملک کو اس سے فائدہ نہیں ہوگا۔





















































































