آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے جون کے لیے ری گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی تقسیمی سطح پر فروخت کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
اوگرا کے مطابق آر ایل این جی کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران عالمی سپلائی میں خلل اور اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگے داموں فوری بنیادوں پر ایل این جی کی خریداری ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جون میں آر ایل این جی کی قیمت مئی کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد، مارچ کے مقابلے میں 56 فیصد اور فروری کے مقابلے میں 73 فیصد زیادہ ہوگئی ہے۔
آر ایل این جی کی قیمت میں اضافے کے باعث بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
مئی میں آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی فی یونٹ ایندھن لاگت 31 روپے رہی، جبکہ اپریل میں یہ لاگت 13 روپے 72 پیسے فی یونٹ تھی۔
سوئی سدرن گیس کمپنی سندھ اور بلوچستان کے صارفین کو گیس فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے تقسیمی نظام میں گیس کے نقصانات بڑھ کر 12.55 فیصد ہوگئے ہیں، جبکہ چند ماہ قبل یہ شرح تقریباً 10.6 فیصد تھی۔
دوسری جانب پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گیس فراہم کرنے والی سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے تقسیمی نظام میں نقصانات بڑھ کر تقریباً 9 فیصد ہوگئے ہیں، جو گزشتہ سال اکتوبر میں 7.47 فیصد تھے۔




















































































