ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ حملوں سے سعودی عرب کا دفاع کرنے کے لیے پاکستان کسی بھی حد تک جائے گا اور پاکستان پوری طرح سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے وہاں موجود ہے، اس پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کا دفاع کرتا رہے گا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی کے لیے پاکستان کا عزم غیر مشروط ہے۔ یہ دونوں ملکوں کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان قائم نہ ٹوٹنے والا تاریخی رشتہ ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کا دفاع جاری رکھے گا اور اس مقصد کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔
اس سے قبل ایک اور انٹرویو میں مکہ معاہدے کے کسی فریق پر حملے کی صورت میں پاکستان کے ممکنہ ردعمل سے متعلق سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد کا طریقہ کار کبھی عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے کہا تھا کہ کسی حملے کی صورت میں ردعمل سے متعلق لائحہ عمل تینوں ممالک طے کریں گے اور اسی کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مکہ معاہدے پر کسی کو اعتراض نہیں، کیونکہ سب سمجھتے ہیں کہ یہ اقدام دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ دفاع سے متعلق دیگر معاہدے بھی موجود ہیں، جن میں ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانیاں شامل ہیں۔ ان کے بقول معاہدے کے تحت کارروائی کا طریقہ کار، فوجی آپریشنز اور سکیورٹی سے متعلق معلومات خفیہ ہوتی ہیں، جبکہ کسی بھی کارروائی کا فیصلہ تینوں ممالک نے کرنا ہے۔






















































































