اسلام آباد: پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور اس سلسلے میں اب تک 70 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔
چیئرمین پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی بلال بن ثاقب نے بتایا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری فریم ورک 6 ماہ میں تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقررہ ریگولیٹری شرائط پر پورا اترنے والی کمپنیوں کو ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کے لیے لائسنس جاری کیے جائیں گے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق ڈیجیٹل ترسیلات زر کے ذریعے بیرون ملک سے پاکستان رقم بھیجنے کی لاگت میں نمایاں کمی لائی جاسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی لاگت تقریباً 6.5 فیصد ہے، جسے ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال سے کم کرکے ایک فیصد تک لایا جاسکتا ہے۔
چیئرمین پاکستان ورچوئل ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ترسیلات زر کی لاگت میں اس کمی سے تقریباً 41 کروڑ ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔






















































































