انقرہ: دنیا کے تقریباً 140 ممالک میں مقبولیت حاصل کرنے اور ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کی عالمی صنعت بننے کے بعد ترک ڈراموں نے اب چین کی بڑی ٹیلی ویژن مارکیٹ پر نظریں جما لی ہیں۔
تقریباً دو دہائیوں کے دوران محبت، دھوکے، خاندان اور اقتدار کے گرد گھومنے والی ترک کہانیاں مشرق وسطیٰ سے نکل کر لاطینی امریکا، یورپ اور ایشیا تک پہنچ چکی ہیں۔
اس بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ترکیے کی ٹیلی ویژن صنعت کو ایک اہم عالمی ثقافتی برآمد میں تبدیل کردیا ہے، جس کی مالیت اب ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ترک ڈراموں نے غیر ملکی ناظرین کو ترکیے کے کھانوں، لباس، زبان اور روزمرہ رسم و رواج سے متعارف کرانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ ان کی مقبولیت کو ترکیے میں سیاحت کی بڑھتی ہوئی دلچسپی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
ترک وزارت ثقافت و سیاحت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ ثقافتی اثر ترک ڈراما صنعت کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
ان کے مطابق ترک ڈرامے ایک طرح سے ترکیے آنے کی دعوت بھی ہیں، کیونکہ جب غیر ملکی ناظرین کوئی ترک سیریز دیکھتے ہیں تو ان میں ترکیے کا سفر کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ بیرون ملک ناظرین پر کی جانے والی تحقیق میں بھی اس ثقافتی اثر کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ترک ڈراموں نے نہ صرف ترکیے کی ثقافت اور زبان میں دلچسپی بڑھائی بلکہ لوگوں میں ترکیے کا سفر کرنے کا رجحان بھی بڑھایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترک ڈراما اب ایک عالمی برانڈ بن چکا ہے اور دنیا بھر میں ان سیریز کی الگ شناخت قائم ہوچکی ہے۔
تاہم دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی ویژن مارکیٹوں میں شمار ہونے والا چین اب بھی ترک ڈراموں کی رسائی سے بڑی حد تک باہر ہے۔
چینی مارکیٹ میں جگہ بنانے کی صورت میں ترک پروڈیوسرز کو کروڑوں نئے ناظرین تک رسائی مل سکتی ہے، خصوصاً ایسے ناظرین جو طویل اقساط پر مشتمل ٹی وی ڈراموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس وقت چین کی مقامی مارکیٹ پر چینی ڈراموں کا غلبہ ہے جبکہ کوریائی ڈراموں کے بھی وہاں بڑی تعداد میں مداح موجود ہیں۔
ترکیے کی معروف میڈیا پروڈکشن کمپنی آئی یاپم کے چیف ایگزیکٹو کریم چاتے نے ترک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ لاطینی امریکا اور مشرق وسطیٰ اس وقت بیرون ملک ترک ڈراموں کی سب سے بڑی منڈیاں ہیں۔
ان کے مطابق ترک پروڈیوسرز اب مزید بڑے ناظرین تک پہنچنے کے لیے چین پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں، تاہم اس مارکیٹ میں کامیابی کے لیے انہیں سخت محنت کرنے کے ساتھ چینی ناظرین کی دلچسپیوں اور ترجیحات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔





















































































