سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا، جسے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں ایک اہم اور نمایاں پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
افتتاحی تقریب کے موقع پر متعلقہ حکام نے شرجیل انعام میمن کو ڈبل ڈیکر بسوں کی خصوصیات، سہولیات اور آپریشنل منصوبے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جس پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت نے عوام سے ڈبل ڈیکر بسیں چلانے کا وعدہ کیا تھا اور اب ایسے منصوبے متعارف کروائے جا رہے ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔
شرجیل میمن نے بتایا کہ ڈبل ڈیکر بس سروس کا ابتدائی روٹ 22 کلو میٹر پر مشتمل ہے، جبکہ بس کا کرایہ 80 سے 120 روپے کے درمیان رکھا گیا ہے تاکہ عام شہری باآسانی اس سہولت سے استفادہ کر سکیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ بسیں ابتدائی مرحلے میں ملیر سے شارع فیصل تک چلائی جائیں گی اور کوشش ہے کہ مستقبل میں شہر کی دیگر بڑی سڑکوں پر بھی ڈبل ڈیکر بسیں نظر آئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے بسوں کے کرایوں میں سبسڈی دی جا رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر عوام کے لیے سفری سہولیات میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جبکہ نئے سال میں سندھ بھر میں جدید اور بہتر ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
شرجیل میمن نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ پیپلز بس سروس کے ذریعے روزانہ سوا لاکھ سے زائد مسافر سفر کر رہے ہیں، جبکہ گرین لائن بس سروس سے تقریباً 65 ہزار افراد روزانہ مستفید ہو رہے ہیں، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریڈ لائن اور بی آر ٹی منصوبے پر دوبارہ کام شروع کر دیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کراچی کی سڑکوں کی بہتری کے لیے تمام متعلقہ ادارے مل کر کام کر رہے ہیں، صنعتی علاقوں کی ترقی کے لیے 9 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جبکہ شاہراہ بھٹو کو اسٹیٹ آف دی آرٹ منصوبے کے طور پر عوام کے لیے ایک اہم تحفہ قرار دیا گیا ہے۔