امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق قطر سے گیس کی سپلائی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث پاکستان میں کھاد کی صنعتوں کو گیس کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ اس فیصلے کو ملک میں توانائی کے ممکنہ بحران کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکام صنعتی شعبے کے لیے گیس سپلائی میں مزید کمی کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ دستیاب گیس کو ترجیحی بنیادوں پر دیگر ضروری شعبوں کے لیے محفوظ رکھا جا سکے۔
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت پیٹرول مانیٹرنگ کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کے موجودہ ذخائر کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی غیر یقینی صورتحال پر حکومت گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کا عالمی توانائی کی ترسیل پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت دوست ممالک سے اضافی خام تیل کی فراہمی کے لیے بھی رابطے کر رہی ہے تاکہ کسی ممکنہ بحران کی صورت میں توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔