امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان کی صورتحال پر ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان غیر معمولی کشیدگی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلان پر شدید ناراضی کا اظہار کیا اور نیتن یاہو کے مؤقف پر سخت اعتراض اٹھایا۔
ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق گفتگو کے دوران ماحول کئی مرتبہ انتہائی تلخ ہو گیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے جذباتی انداز میں اسرائیلی وزیراعظم کے لیے سخت الفاظ بھی استعمال کیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی جب لبنان کی صورتحال کے باعث خطے میں تناؤ بڑھ رہا ہے اور ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ بعض سفارتی رابطے معطل کیے جانے کی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے گفتگو کے دوران اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں جانی نقصان میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ حملوں کے طریقہ کار اور اہداف کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو اسرائیل کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران نسبتاً محتاط رویہ اختیار کیا اور صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔
ادھر واشنگٹن کی جانب سے لبنان میں ممکنہ جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر سفارتی رابطے جاری رکھے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔























































































