وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے کفایت شعاری اور بچت کے اقدامات سے حاصل ہونے والی رقوم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزرا عطا تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے اعلامیے کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے مختلف پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا جبکہ حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے کفایت شعاری اقدامات کی پیشرفت اور ان کے اثرات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومتی بچت کے تمام اقدامات سے حاصل ہونے والی رقم عوامی سہولت اور ریلیف کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری اداروں اور حکومتی سرپرستی میں کام کرنے والے خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد تک بتدریج کٹوتی کی جائے گی۔ اس کٹوتی سے حاصل ہونے والی رقم بھی عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اس کے علاوہ کارپوریشنز اور دیگر اداروں میں حکومتی نمائندے بورڈ اجلاس میں شرکت کے عوض فیس وصول نہیں کریں گے اور یہ رقم بھی حکومتی بچت میں شامل کی جائے گی۔
اعلامیے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر چار روزہ ورک ویک کا اطلاق نہیں ہوگا اور ان اداروں کے ملازمین اپنے معمول کے طریقہ کار کے مطابق فرائض انجام دیتے رہیں گے۔
وزیراعظم نے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت کی ہے کہ یوم پاکستان 23 مارچ کی تقریبات انتہائی سادگی سے منعقد کی جائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری افسران، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی عائد رکھنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری اقدامات پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے متعلقہ سیکریٹریز خود نگرانی کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔