امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی کو نشانہ بنایا گیا تو ایران کو اس کی “کئی گنا زیادہ قیمت” چکانا پڑے گی۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈینیئل کین اور امریکی فوج کو اس حوالے سے واضح ہدایات جاری کر دی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ہفتے شمالی عراق اور اردن میں ایرانی حملوں میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق اردن میں حملے کے بعد ملنے والے بعض ناقابل شناخت انسانی اعضا کا فرانزک جائزہ لیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایک اور بیان میں ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انہیں امریکا آمد پر کسی بھی صورت گرفتار نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو ایران کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ ایران پر مظاہرین اور امریکی شہریوں و فوجیوں کے قتل کے الزامات بھی عائد کیے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ذمہ داری ان افراد پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے ایران کو موجودہ صورتحال تک پہنچایا، اور ان کے بقول اس مسئلے سے کئی برس پہلے نمٹا جانا چاہیے تھا۔
یہ بیان نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نیتن یاہو کی ممکنہ نیویارک آمد کی صورت میں ان کی گرفتاری کے قانونی امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔























































































