پاکستان کے عدالتی نظام نے 2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران 29 لاکھ سے زائد مقدمات کا تصفیہ کرتے ہوئے زیر التوا مقدمات کی مجموعی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی ہے۔
پاکستان فریڈم رپورٹ (مشال پاکستان) کی جانب سے جاری کردہ “لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان” کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 30 جون 2025 کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 28 لاکھ 7 ہزار 674 نئے مقدمات درج ہوئے، جبکہ 29 لاکھ 1 ہزار 440 مقدمات نمٹائے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سال کے آغاز پر زیر التوا مقدمات کی تعداد 23 لاکھ 71 ہزار 227 تھی، جو چھ ماہ کے دوران ایک لاکھ 643 مقدمات کی کمی کے بعد 22 لاکھ 70 ہزار 584 رہ گئی۔
رپورٹ کے مطابق زیر التوا مقدمات میں کمی کی بنیادی وجہ اعلیٰ عدالتوں اور پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور اسلام آباد کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات کے تیز رفتار تصفیے کو قرار دیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات میں اضافہ دیکھا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور پانچوں ہائی کورٹس میں سال کے آغاز پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 6 ہزار 379 مقدمات زیر التوا تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان عدالتوں میں چھ ماہ کے دوران ایک لاکھ 27 ہزار 901 نئے مقدمات دائر ہوئے، جبکہ ایک لاکھ 47 ہزار 702 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہو کر 3 لاکھ 61 ہزار 677 رہ گئی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 57 ہزار 403 سے کم ہو کر 56 ہزار 145 رہ گئی۔ اس عرصے کے دوران عدالت عظمیٰ میں 9 ہزار 685 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ 11 ہزار 888 مقدمات نمٹائے گئے۔
وفاقی شرعی عدالت میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 78 سے کم ہو کر 65 رہ گئی، جہاں 31 نئے مقدمات درج ہوئے اور 44 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ نے زیر التوا مقدمات کی تعداد ایک لاکھ 98 ہزار 5 سے کم کرکے ایک لاکھ 88 ہزار 77 کر دی، جبکہ سندھ ہائی کورٹ میں یہ تعداد 86 ہزار 421 سے کم ہو کر 57 ہزار 289 رہ گئی۔
اسی طرح پشاور ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات 40 ہزار 667 سے کم ہو کر 35 ہزار 441 رہ گئے، جہاں نئے مقدمات کے اندراج کے ساتھ بڑی تعداد میں کیسز کا تصفیہ بھی کیا گیا۔























































































