وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت ممکنہ طور پر فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے، جس کے تحت اپنے شہریوں یا قید پاکستانیوں کی لاشیں استعمال کر کے دہشت گردی کا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت حجم، معیشت اور فوجی طاقت کے لحاظ سے پاکستان سے بڑا ملک ہے، تاہم پاکستان نے ماضی میں جس انداز میں جواب دیا ہے وہ تاریخ کا حصہ بنے گا اور اسے مؤرخین یاد رکھیں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ نے ماضی میں بھارتی حدود میں جا کر کارروائی کی، اور اگر اس بار بھارت نے کوئی جارحیت کی تو پاکستان سخت ردعمل دے گا اور کولکتہ تک کارروائی کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ عمل ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس پر تبصرہ کرنا فی الحال مناسب نہیں۔
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان ان مذاکرات میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور امید ظاہر کی کہ ملک کو اس حوالے سے کامیابی حاصل ہوگی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم سب ایک نبی ﷺ کے امتی ہیں اور اختلافات سے نکل کر اتحاد کی طرف بڑھنا چاہیے، جبکہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں کامیابی کے لیے دعا کی جانی چاہیے۔