وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر میں کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں، جن کے تحت کاروباری اور سرکاری امور میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کیے جائیں گے، جبکہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کو رات 10 بجے تک بند کرنا لازمی ہوگا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے فیول کوٹے میں 50 فیصد کمی کر دی گئی ہے، جبکہ نئی گاڑیوں کی خریداری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
نوٹیفکیشن کے تحت سرکاری میٹنگز کو آن لائن پلیٹ فارمز پر منتقل کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جبکہ سرکاری افسران کے پروٹوکول اور سکیورٹی گاڑیوں کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ سرکاری سطح پر عشائیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم غیر ملکی وفود کو اس سے استثنیٰ دیا گیا ہے، جبکہ کام کے اوقات کار ہفتے میں چار دن تک محدود کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب تاجر برادری کی جانب سے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، اور ان کا کہنا ہے کہ شہری صبح کے اوقات میں شاپنگ کے لیے نہیں آتے جبکہ کاروباری حالات پہلے ہی متاثر ہیں، اس لیے ایسی پابندیاں مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔
تاہم لاہور چیمبر کے صدر نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹس کو جلد کھولنے اور رات 8 بجے بند کرنے کے اقدام پر عملدرآمد کے لیے تاجر برادری کو قائل کیا جائے گا۔