دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ایران بھر میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور خوشی کا بھرپور اظہار کیا گیا، جس سے ملک میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔
جنگ بندی کی خبر سامنے آتے ہی شہری ہاتھوں میں قومی پرچم تھامے سڑکوں پر نکل آئے اور پرجوش نعرے بازی کی، جبکہ مختلف علاقوں میں عوام نے اپنی مسرت کا اظہار کھلے انداز میں کیا۔
مظاہروں میں خواتین، بچے، بزرگ اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہوئے، اور کئی مقامات پر شہری تنصیبات کے گرد انسانی زنجیر بھی بنائی گئی، جو یکجہتی کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
ادھر معروف ایرانی موسیقار علی قمصری نے دماوند پاور پلانٹ کے باہر دھرنا دیتے ہوئے کہا کہ وہ حملے رکوانے کے لیے موسیقی کے ذریعے اپنا پیغام پہنچائیں گے۔
دوسری جانب عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی جنگ بندی کے اعلان پر جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا، جہاں شہری رات گئے گھروں سے باہر نکل آئے اور ایران پر مسلط جنگ کے خاتمے کا خیرمقدم کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر کی ڈیڈ لائن قریب آنے پر ایران بھر میں عوام سڑکوں پر نکل آئے تھے اور صورتحال پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا تھا۔