عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے سولر پینلز اور سٹیشنری مصنوعات پر ٹیکس میں مجوزہ اضافے کی تجویز واپس لینے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کے بعد آئی ایم ایف نے سولر پینلز اور سٹیشنری اشیا پر اضافی ٹیکس عائد نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس پیش رفت کو مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی تیاری کے دوران عوامی مفادات کے تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافہ نہ ہونے سے متبادل توانائی کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور گھریلو و تجارتی صارفین کو ریلیف ملے گا۔
دوسری جانب حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان جائیداد کے شعبے کیلئے مجوزہ ٹیکس رعایتوں پر مذاکرات تاحال جاری ہیں اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل متوقع ہے۔






















































































