وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کیلئے اہم ٹیکس اصلاحات پر غور کر رہی ہے، جن میں سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق زیادہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کیلئے مقرر اعلیٰ ترین انکم ٹیکس سلیب کی حد بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ اضافی سرچارج یا جرمانے کے خاتمے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح برآمدی شعبے کو سہولت فراہم کرنے کیلئے ایک فیصد برآمدی ٹیکس ختم کیے جانے کا امکان ہے۔ ٹیکس حکام کے مطابق حکومت بجٹ تقریر میں برآمد کنندگان کیلئے خصوصی ریلیف اقدامات کا اعلان کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس نظام سے نکال کر نارمل ٹیکس نظام میں منتقل کیا گیا تھا، جس کے بعد ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم دو فیصد ٹیکس نافذ کیا گیا تھا۔
صنعتی اور برآمدی حلقوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے ساتھ فائنل ٹیکس نظام کو اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور خسارے میں جانے والے برآمد کنندگان کو مزید ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔
اس کے علاوہ نارمل ٹیکس نظام میں شامل کاروباری اداروں کو غیر ضروری ٹیکس کارروائیوں سے تحفظ دینے کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ میں سولر پینلز، سٹیشنری اشیا اور حصص بازار پر عائد ٹیکسوں میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز واپس لے لی گئی ہے جبکہ سٹیشنری مصنوعات پر اضافی سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی شامل نہیں ہوگی۔
اسی طرح یکم جولائی 2026 سے حصص بازار پر نافذ موجودہ ٹیکس شرحوں میں بھی کوئی ردوبدل متوقع نہیں ہے۔






















































































