جب قومیں چاروں طرف سے مسائل کے انبار میں گھِر جائیں اور ان سے نکلنے کے راستے تنگ دکھائی دینے لگیں، تو محض جوش و جذبہ کافی نہیں ہوتا بلکہ مؤثر حکمتِ عملی بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد سے سندھ اپنے وجود اور شناخت کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا آ رہا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے سندھ کی قومی شناخت، جغرافیائی وحدت، زبان کے تحفظ، آبادیاتی تناسب (ڈیموگرافی) اور تاریخی روایات کو مسلسل خطرات لاحق رہے ہیں، جن کے خلاف سندھ کے عوام مستقل مزاحمت کرتے رہے ہیں۔
اس وقت سندھ کو درپیش وجودی خطرات میں سب سے اہم اپنی ہی سرزمین پر آبادی کے اعتبار سے اقلیت میں تبدیل ہونے کا خدشہ اور سندھ کی جغرافیائی تقسیم کا خطرہ ہے۔ ان کے علاوہ بھی مسائل کی ایک طویل فہرست موجود ہے، جو کسی نہ کسی انداز میں انہی دو بنیادی مسائل سے جڑی ہوئی ہے۔
سندھ کے قومی وجود اور حقوق کی جدوجہد میں جہاں ثابت قدمی، دیانت، قربانی اور اپنی دھرتی سے محبت جیسے عوامل ہمیشہ اس تحریک کی طاقت بنتے رہے ہیں، وہیں مؤثر حکمتِ عملی کا پہلو نسبتاً کمزور رہا ہے۔
دیہی معاشرت میں عمومی طور پر حکمتِ عملی پر مبنی سوچ روزمرہ معاملات میں کم نظر آتی ہے، جبکہ شہری اور کاروباری ماحول اس سوچ کو مضبوط اور مؤثر بناتا ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں کے دوران سندھ میں ابھرنے والا نیم شہری اور شہری متوسط طبقہ روزمرہ زندگی اور اجتماعی سوچ میں ایک نئی جہت اور تازگی پیدا کر رہا ہے۔
کراچی کی حکمتِ عملی کے اعتبار سے اہمیت کو سمجھنے کے لیے کسی غیر معمولی ذہانت کی ضرورت نہیں۔ بندرگاہی شہر (پورٹ سٹی) ہونے اور ملک کے سب سے بڑے تجارتی و کاروباری مرکز کی حیثیت رکھنے کے باعث کراچی نہ صرف قومی معیشت بلکہ ملکی سیاست میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر، جہاں مختلف نسلوں، قومیتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہوں، وہاں شہر پر اثر و رسوخ اور بالادستی کا انحصار زمینی حقائق پر ہوتا ہے۔ ان حقائق میں سب سے اہم عناصر کاروبار، ٹرانسپورٹ اور اسٹریٹ پاور ہوتے ہیں۔ بعض اوقات آبادی کی اکثریت یا اقلیت بھی ان عوامل کے مقابلے میں ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے، اور یہی صورتحال کراچی پر بھی صادق آتی ہے۔
۱۹۴۷ء کے بعد ہندوستان سے مختلف زبانیں بولنے والے مہاجرین کی بڑی تعداد کراچی میں آباد ہوئی، جبکہ مقامی ہندو آبادی ہجرت کر گئی، جس کے نتیجے میں شہر کی آبادیاتی ساخت (ڈیموگرافی) یکسر تبدیل ہوگئی۔ یہ عدم توازن صرف آبادی تک محدود نہیں رہا بلکہ کراچی کو سندھ سے الگ ایک اکائی کے طور پر دیکھنے کا رجحان بھی فروغ پانے لگا۔ سندھ کے عوام کی خواہشات کے برعکس کراچی کو وفاقی دارالحکومت بنایا گیا اور یوں عملی طور پر اسے سندھ سے الگ کر دیا گیا۔
اگرچہ ۱۹۷۰ء میں ون یونٹ کے خاتمے کے بعد کراچی ایک مرتبہ پھر سندھ کا دارالحکومت بن گیا، لیکن اس عرصے میں شہر کی لسانی ساخت نمایاں طور پر تبدیل ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ ہی کاروبار، زمین، جائیداد، ٹرانسپورٹ اور صنعت سمیت شہر کے بیشتر معاشی شعبے سندھیوں کے ہاتھوں سے نکل چکے تھے۔
اردو بولنے والے (اور ان کے ساتھ ہندوستان سے آنے والی دیگر زبانیں بولنے والی برادریاں) عملاً شہر کے تمام معاملات پر غالب آ چکی تھیں۔ اس کے علاوہ صنعت، تجارت اور کاروبار میں پنجابی بولنے والوں کا اثر و رسوخ قائم ہو گیا، جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر خیبر پختونخوا سے آنے والے افراد کی اجارہ داری قائم ہو چکی تھی۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں اگرچہ سندھیوں کو نچلی اور درمیانی سطح کی بیوروکریسی میں کچھ نمائندگی ملی، لیکن کراچی میں وہ خود کو اجنبی محسوس کرتے تھے۔
بھٹو حکومت کے خاتمے اور ان کی پھانسی تک پہنچنے میں بھی کراچی کی سیاست نے اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت کی تبدیل شدہ آبادیاتی صورتحال میں جن سیاسی قوتوں نے بھٹو مخالف تحریک کی قیادت کی، وہ کراچی کی معیشت پر اپنی مضبوط گرفت کے باعث قومی سیاست پر بھی گہرے اور فیصلہ کن اثرات مرتب کر رہی تھیں۔
کراچی کی آبادیاتی ساخت (ڈیموگرافی)، کاروبار، اسٹریٹ پاور اور مجموعی شہری معیشت پر مضبوط گرفت ہی وہ بنیادی عوامل تھے، جن کی بدولت یہ لسانی گروہ ملکی فیصلوں میں ایک فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گیا۔ اسی طاقت کے باعث ریاستی اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی سرپرستی کرتی رہی۔
کراچی کی کاروباری معیشت اور شہری سیاست میں سندھیوں کی مؤثر شراکت نہ ہونے کے باعث اس لسانی گروہ نے عملی طور پر خود کو شہر کا اصل مالک منوا لیا تھا۔
دوسری جانب، وہ سندھی نمائندہ سیاسی جماعتیں اور تنظیمیں، جو کراچی کو سندھ کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دینے کا نعرہ لگاتی تھیں، وہ بھی عملی طور پر کراچی میں اپنی تنظیمی بنیادیں مضبوط نہ کر سکیں، حتیٰ کہ شہر میں مؤثر تنظیمی دفاتر قائم کرنے میں بھی ناکام رہیں۔
اسی وجہ سے ملک بھر میں سندھیوں کو کراچی کے معاملات میں ایک حقیقی فریقِ کار کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ دوسری جانب، شہر کی معیشت پر اپنی مضبوط گرفت کے باعث اس لسانی گروہ نے 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں اس قدر سیاسی اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا کہ کوئی بھی قومی سیاسی جماعت اس کی حمایت یا تعاون کے بغیر مؤثر اور آزادانہ انداز میں حکومت چلانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی تھی۔
مختصراً یہ کہ کراچی کی سیاست کے دو بنیادی ستون شہر کی آبادیاتی ساخت (ڈیموگرافی) اور اس کی کاروباری معیشت تھے۔ چونکہ یہ دونوں عناصر بڑی حد تک ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے طبقے کے حق میں تھے، اس لیے وہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کی سیاست میں بھی ایک فیصلہ کن کردار ادا کرتے رہے۔
کراچی کی کاروباری معیشت کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ تقریباً بیس برس قبل کی صنعتی مردم شماری کے مطابق شہر میں لگ بھگ 1,200 بڑی صنعتیں قائم تھیں۔ پورے صوبے میں بڑی صنعتوں کی مجموعی تعداد 1,825 تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کی ہر تین بڑی صنعتوں میں سے دو کراچی میں واقع تھیں۔
اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق ان صنعتوں سے تقریباً دو لاکھ افراد کو روزگار حاصل تھا۔
مختلف انگریزی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق کراچی کے چار بڑے صنعتی علاقوں میں چھوٹے اور بڑے ملا کر تقریباً 600 کارخانے موجود ہیں، جہاں 11 لاکھ کے قریب افراد روزگار سے وابستہ ہیں۔
تین جنوری 2021ء کو شائع ہونے والی ڈان کی ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کی غیر رسمی معیشت، جس کا نہ تو سرکاری اعداد و شمار میں اندراج ہوتا ہے اور نہ ہی یہ ٹیکس نظام کا حصہ ہے، شہر میں تقریباً 72 فیصد روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہی غیر رسمی معیشت کراچی کی اقتصادی سرگرمیوں کا ایک اہم ستون سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر میں 200 سے زائد بڑی تجارتی مارکیٹیں موجود ہیں، جہاں ہزاروں افراد مختلف نوعیت کے کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے اپنا روزگار کماتے ہیں، جس سے شہری معیشت کو مسلسل تقویت ملتی ہے
جب بھی عدالت نے صدر کے علاقے سے تجاوزات کے خاتمے کے احکامات جاری کیے، تو صرف اسی علاقے سے 200 سے زائد دکانیں، مارکیٹ اسٹالز اور تقریباً 4 ہزار ریڑھیاں ہٹائی گئیں۔
اربن ریسورس سینٹر کے ایک تخمینے کے مطابق کراچی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ ریڑھی بان موجود ہیں، جن کی مجموعی سالانہ آمدنی تقریباً پانچ ارب روپے ہے
کراچی کی کاروباری معیشت کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ تقریباً بیس برس قبل کی صنعتی مردم شماری کے مطابق شہر میں لگ بھگ 1,200 بڑی صنعتیں قائم تھیں۔ پورے صوبے میں بڑی صنعتوں کی مجموعی تعداد 1,825 تھی، جس کا مطلب یہ ہے کہ سندھ کی ہر تین بڑی صنعتوں میں سے دو کراچی میں واقع تھیں۔۔
پاکستان کی معیشت پر تحقیق کرنے والے معتبر ادارے، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE)، کی 2020ء کی ایک رپورٹ کے مطابق گلیوں اور سڑکوں پر روزگار کمانے والے افراد میں سے 54 فیصد (یعنی نصف سے زیادہ) کی اوسط یومیہ آمدنی تقریباً 600 روپے تھی۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار چھ سال پرانے ہیں، تاہم ڈالر کی موجودہ قدر کے مطابق یہ آمدنی آج تقریباً ایک ہزار روپے یومیہ کے برابر بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 14 فیصد افراد کی یومیہ آمدنی 5 ہزار روپے تھی، جو موجودہ مالیاتی قدر کے حساب سے تقریباً 8 ہزار 750 روپے یومیہ بنتی ہے۔ اسی طرح، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کی غیر رسمی یا گلیوں کی معیشت سے وابستہ کاروباری افراد اوسطاً 60 ہزار روپے ماہانہ خالص آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں گلیوں اور سڑکوں پر چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے سات لاکھ ہے، جو مجموعی طور پر سالانہ لگ بھگ ایک ہزار نو سو ارب روپے کا کاروبار کرتے ہیں۔ ۔
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار حقیقی حجم سے کم ہیں، کیونکہ پاکستان میں غیر رسمی معیشت کے درست اور مکمل اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ اس لیے ان اعداد کو صرف ایک محتاط تخمینہ سمجھنا چاہیے۔
تاہم ان اعداد و شمار سے ایک حقیقت واضح ہوتی ہے کہ شہری علاقوں میں کم سرمایہ کاری کے ذریعے بہتر اور معقول آمدنی حاصل کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
کراچی کی کاروباری معیشت کا حقیقی حجم تو شاید مکمل طور پر اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں۔ صرف شہر کی چھوٹی ٹرانسپورٹ کو ہی مثال کے طور پر دیکھا جائے تو ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں تقریباً سوا تین لاکھ رکشے چلتے ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 50 سے 60 ہزار چنگ چی رکشے بھی سڑکوں پر موجود ہیں۔
دو ہزار تئیسء کی مردم شماری کے مطابق کراچی میں تقریباً 35 لاکھ گھرانے آباد ہیں۔ اگر اوسطاً ہر 500 گھروں کے لیے ایک الیکٹریشن، ایک بڑھئی، ایک فریج و ایئرکنڈیشنر کا مکینک، ایک پلمبر، ایک دودھ اور دہی فروش، ایک اخبار فروش، ایک درزی، ایک حجام اور ایک سبزی و پھل فروش کو مدنظر رکھا جائے، تو صرف ہر شعبے میں ہی تقریباً 7 ہزار افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
ان پیشہ ورانہ اور ہنرمند کاروباروں کے لیے نسبتاً کم سرمایہ درکار ہوتا ہے، جبکہ ان سے روزانہ مناسب آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس طرح صرف ان شعبوں سے وابستہ ہنرمند افراد کی تعداد ہی ایک لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔
اس کے علاوہ شہر میں مسلسل جاری تعمیراتی سرگرمیوں سے وابستہ مستری، کاریگر، مزدور، تعمیراتی سامان کی لوڈنگ و ان لوڈنگ کرنے والے، تعمیراتی سامان فراہم کرنے والے اور چھوٹے تعمیراتی ٹھیکیداروں کی ایک الگ دنیا آباد ہے۔
اسی طرح چائے کے ہوٹلوں، بریانی، چاٹ، سموسوں، پکوڑوں اور جلیبی بنانے اور فروخت کرنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے، جو اپنی محنت سے روزگار کما رہے ہیں۔
آج تقریباً ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے، جبکہ گھروں میں سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی ہزاروں نئے روزگار پیدا کیے ہیں۔ اس کے علاوہ گلی گلی قائم روٹی کے تنور بھی بے شمار افراد کے لیے ذریعۂ معاش بنے ہوئے ہیں۔
ان تمام کاروباروں کے آغاز کے لیے عموماً چند لاکھ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے، جبکہ محنت، دیانت داری اور مستقل مزاجی کے ساتھ یہ کاروبار معقول آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
جب میں نے سوشل میڈیا پر کراچی کی کاروباری معیشت میں سندھیوں کی شراکت کے بارے میں لکھا تو خوش آئند بات یہ ہوئی کہ اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ بحث کا آغاز ہوا۔ بعض دوستوں نے میری رائے سے اختلاف بھی کیا، جس کا میں احترام کرتا ہوں، کیونکہ بحث و مباحثہ ہی مختلف پہلوؤں کو واضح کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ۔۔
جس شخص کو اچھی ملازمت مل جائے، اسے ضرور اختیار کرنی چاہیے، لیکن یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر سندھ کی آبادی تقریباً چھ کروڑ ہو اور سالانہ آبادی میں صرف ڈھائی فیصد اضافہ بھی فرض کیا جائے، تو ہر سال تقریباً 15 لاکھ نئے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اموات کو منہا کرنے کے بعد بھی ہر سال تقریباً 10 سے 12 لاکھ نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔
نہ کوئی حکومت ہر سال اتنی بڑی تعداد میں ملازمتیں فراہم کر سکتی ہے اور نہ ہی نجی شعبہ اس قدر روزگار پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے کاروبار، زراعت، مویشی پالنا اور دیگر معاشی سرگرمیاں ہی روزگار کے متبادل ذرائع ہیں، اور بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے لیے کاروبار کی طرف آنا ہی پڑے گا۔
سندھ کے نوجوانوں کو جدید علوم، خصوصاً آئی ٹی بھی سیکھیں اور چھوٹے کاروباروں میں بھی آگے بڑھیں۔ یقیناً یہ ایک اچھی تجویز ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں کتنے نوجوان یونیورسٹیوں تک پہنچ پاتے ہیں؟ دنیا کے کسی بھی ملک میں نوجوان سرکاری اور غیر سرکاری نوکریوں کے ساتھ کاروبار بھی کرتے ہیں۔
اگر 10 سے 15 فیصد نوجوان بھی اس شعبے میں مہارت حاصل کر لیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ جو نوجوان اس میدان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت اور مواقع رکھتے ہیں، انہیں ضرور اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ ملک میں لاکھوں نوجوان ایسے ہیں جو یونیورسٹی تو درکنار، کالج بلکہ بعض اوقات اسکول تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔ ایسے نوجوانوں کو بھی اپنی زندگی گزارنے اور باعزت روزگار کمانے کے لیے کسی نہ کسی ہنر یا ذریعۂ معاش کی ضرورت ہوتی ہے۔
کراچی میں روزگار اور کاروبار کرنے والے لوگ اپنی آمدنی کے ذریعے دیہی معیشت کو بھی مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کراچی کے کاروباروں کے لیے درکار اشیا اور خام مال بڑی حد تک دیہی علاقوں سے ہی آتے ہیں، یا پھر یہ کاروبار وقت کے ساتھ دیہی علاقوں تک بھی پھیل سکتے ہیں۔
سندھ کے دیہی علاقوں کو حکمرانوں نے قبائلی سرداروں اور وڈیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے۔ اس صورتحال سے نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دیہی معیشت کو شہری معیشت سے جوڑا جائے، تاکہ دیہی آبادی بھی معاشی طور پر مضبوط اور خودمختار ہو سکے۔
اپنی جمع پونجی وڈیروں اور ان کے حامیوں پر خرچ کرنے کے بجائے اسی سرمایہ سے کراچی میں کوئی چھوٹا کاروبار شروع کرنا زیادہ بہتر ہے۔ کاروبار وقت کے ساتھ ترقی کرتے ہیں، بشرطیکہ انہیں محنت، دیانت داری اور معیار کے ساتھ چلایا جائے۔
اس وقت دیہی سندھ عملاً وڈیروں اور ان کے بااثر حامیوں کے زیرِ اثر ہے۔ مقامی حکومتوں سے لے کر چھوٹی بڑی ملازمتوں اور روزمرہ کی بنیادی سہولیات تک، عام آدمی کسی نہ کسی بااثر شخصیت کا محتاج ہے۔ اگر لوگ شہری معیشت کا حصہ بنیں تو وہ اس انحصار اور غلامی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ سندھ کو ایک مضبوط شہری متوسط طبقہ بھی میسر آ سکتا ہے۔


















































































