امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جوابی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو دوبارہ دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت میں 58 سینٹس، یعنی 0.8 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 72.57 ڈالر تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 88 سینٹس، یا 1.3 فیصد اضافے کے ساتھ 70.11 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔
توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی یا تیل کی ترسیل مزید متاثر ہوئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی اور قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔






















































































