وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر رابطہ کاری (کوآرڈینیشن) کے لیے کوئی وفاقی ادارہ قائم کیا جاتا ہے تو سندھ حکومت کو اس پر اعتراض نہیں، تاہم آئین کے تحت انتظامی اختیارات صوبوں کے پاس ہی رہیں گے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو جو اختیارات حاصل ہوئے ہیں، وہ آئین کے مطابق برقرار رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ایگزیکٹو پاور صوبوں کے پاس ہے، جبکہ انٹیلی جنس نظام کو بہتر بنانے کے لیے وفاق اور صوبے دونوں نئے ادارے قائم کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ، خصوصاً کراچی میں 12 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ قابلِ مذمت ہے اور اس مسئلے کا فوری حل نکالا جانا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کو ونڈ اور سولر پاور منصوبے لگانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو ان کے بقول سمجھ سے بالاتر ہے۔





















































































