امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز ایران اور امریکا ایک معاہدے پر متفق ہوگئے تھے، تاہم مذاکرات ختم ہونے کے صرف ایک گھنٹے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا۔
امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران تمام معاملات سے دستبردار ہوگیا تھا اور یہ امریکا کے لیے ایک بہترین معاہدہ تھا۔ ان کے مطابق اس معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ شامل تھا اور ایران نے تمام شرائط تسلیم کر لی تھیں، لیکن مذاکراتی کمرے سے نکلنے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی ایک بحری جہاز پر ڈرون حملہ کر دیا گیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس ڈرون حملے کے بعد امریکا نے ایران کو سخت جواب دیا اور اسی رات ایران پر بمباری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ “وہ بہت بیمار ذہنیت کے لوگ ہیں۔”
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے۔
دریں اثنا ریپبلکن سینیٹر اور اپنے قریبی ساتھی لنزے گراہم کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کی رات ان کی وفات سے چند گھنٹے قبل فون پر ان سے بات کی تھی۔
ٹرمپ کے مطابق لنزے گراہم تھکاوٹ کے باوجود بالکل ٹھیک محسوس ہو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں گراہم کی موت اچانک ہوئی اور شاید دنیا سے رخصت ہونے کا یہ کوئی بہت برا طریقہ نہیں تھا۔























































































