امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کے ردعمل میں امریکا نے ایران پر حملے کیے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر دوبارہ ایسی کوئی کارروائی ہوئی تو نتائج اس سے کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے ایران پر مزید حملوں کی دھمکی دی تھی، تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ مکمل جنگ شروع ہونے کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خارگ جزیرے پر بھی قبضہ کرسکتا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی کوشش کی تو اسے امریکی فوج کی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ایران آبنائے ہرمز کو کھولتا اور جہازوں پر فائرنگ بند نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی معاہدہ یہ تھا کہ اگر ایران جہازوں پر فائرنگ کرے گا تو امریکا بھرپور جوابی کارروائی کرے گا۔
امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران معاہدے کی پاسداری کرے یا پھر اسے وہی نتائج بھگتنا ہوں گے جو گزشتہ رات دیکھنے میں آئے۔
دوسری جانب امریکی فوج نے ایران کے مختلف علاقوں سرک، چابہار، بندر عباس، کنارک، ایرانشہر اور جزیرہ ابو موسیٰ میں تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایران پر اضافی حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے عملے پر مبینہ ایرانی حملوں کے ردعمل میں کیے جا رہے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق بمباری کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کے لیے خطرہ بننے کی ایران کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق چابہار پر امریکی حملے کے دوران ایک پروجیکٹائل کا ٹکڑا امام علی اسپتال پر گرا، جبکہ میری ٹائم ٹریفک کنٹرول ٹاور اور ایک ڈپو پر حملوں کی بھی اطلاعات ہیں۔





















































































