ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں زمینی فوج بھیجنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس میں ایسے آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے جن میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع بعض ایرانی جزائر پر زمینی فوج اتارنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
اس حوالے سے امریکی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو جلد شکست دی جائے گی اور تہران مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران ملاقات کا خواہاں ہے اور امریکا دیکھے گا کہ اس کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچا جا سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں گرفتار کی گئی ایک امریکی خاتون کو رہا کر دیا ہے، جسے وہ خیرسگالی کا اقدام قرار دیتے ہیں۔
ایرانی پلوں پر حملوں کی مبینہ ڈیڈ لائن سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیڈ لائن دینا پسند نہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کو اپنا رویہ بہتر بنانا چاہیے اور اسے موجودہ صورتحال کا بخوبی علم ہے۔
دریں اثنا امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایران پر نئے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے خطرہ بننے والی ایرانی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق سیریک، اہواز، چابہار اور بندر عباس میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں 7 ایرانی فوجی اور 30 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔























































































