سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی تہران میں ایک عوامی تقریب میں شرکت کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کے حوالے سے سامنے آنے والے بعض دعوؤں پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
ترک خبر رساں ادارے کی جانب سے ایکس پر جاری کی گئی ویڈیو میں محمود احمدی نژاد کو تہران میں منعقدہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی یادگاری تقریب میں شریک دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ ویڈیو امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ کے ایک روز بعد سامنے آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ احمدی نژاد مبینہ طور پر اسرائیلی انٹیلیجنس سے رابطے میں تھے اور ایران میں رجیم چینج منصوبے کا حصہ تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق ایرانی صدر کی موجودہ صورتحال واضح نہیں اور امکان ہے کہ انہیں مبینہ اسرائیلی روابط کے باعث ایرانی پاسداران انقلاب کی تحویل میں رکھا گیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق احمدی نژاد کو آخری مرتبہ 6 جولائی کو ایک عوامی تقریب میں مختصر وقت کے لیے دیکھا گیا تھا، جہاں وہ محافظوں کے حصار میں موجود تھے۔
دوسری جانب محمود احمدی نژاد نے موساد سے مبینہ تعلقات اور نظر بندی سے متعلق تمام دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
ترک خبر رساں ادارے کے مطابق احمدی نژاد کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیویارک ٹائمز نے عوامی رائے کو گمراہ کرنے اور ایران کے اندر اختلافات کو ہوا دینے کے لیے بے بنیاد رپورٹ شائع کی۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ محمود احمدی نژاد نہ نظر بند ہیں اور نہ ہی ان کے اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے کسی قسم کے تعلقات ہیں۔
دفتر کے مطابق نظر بندی کا دعویٰ بھی بے بنیاد ہے اور اسے صرف رپورٹ کے دیگر الزامات کو تقویت دینے کے لیے شامل کیا گیا۔
واضح رہے کہ محمود احمدی نژاد 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے، جبکہ گزشتہ ہفتے وہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں بھی شریک ہوئے تھے۔























































































