تہران: امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث ایرانی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہے اور ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد ایک امریکی ڈالر کی قیمت 20 لاکھ ایرانی ریال سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔
ایرانی کرنسی کی قدر میں اس غیر معمولی کمی کے ساتھ ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے شہریوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ سے قبل 20 لاکھ ایرانی ریال میں تقریباً 4 کلو ٹماٹر، آدھا کلو مرغی اور ایک لیٹر سے کچھ کم کھانے کا تیل خریدا جاسکتا تھا۔
تاہم اب اسی رقم میں ان اشیائے خورونوش کی پہلے کے مقابلے میں آدھی مقدار بھی خریدنا ممکن نہیں رہا۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹماٹر کی اوسط قیمت میں 71 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جبکہ مرغی کی قیمت میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسی طرح کھانے کے تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ 177 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔
ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی اور بنیادی اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ملک میں مہنگائی اور شہریوں کی قوت خرید پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔
ٹیگز: ایران, ایرانی ریال, امریکی ڈالر, امریکی پابندیاں, ایرانی معیشت, مہنگائی, اشیائے خورونوش, کرنسی, ایران امریکا تنازع, تہران






















































































