بشکیک: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کی موجودہ صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ روس سمجھتا ہے ایران اپنے مفادات اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اور ماسکو اس جدوجہد میں ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران روسی صدر نے کہا کہ بدقسمتی سے خطے میں پہلے قائم ہونے والا امن دیرپا ثابت نہیں ہوسکا۔
پیوٹن نے مسعود پزشکیان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماسکو اپنے مفادات کے حصول کی جدوجہد میں ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
روسی صدر کے مطابق موجودہ فوجی اور سیاسی صورتحال کے باوجود روس اور ایران اپنے اقتصادی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ روس سمجھتا ہے کہ ایران اپنے مفادات اور آزادی کی لڑائی لڑ رہا ہے اور انہیں یہ صورتحال دیکھ کر خوشی ہے۔
ملاقات کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایران میں جاری جنگ اور اس کے نتیجے میں عائد ہونے والی پابندیوں کے معاملے پر روس کے مؤقف پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور روس اسٹریٹیجک شراکت دار ہیں اور دونوں ممالک امریکا کے یکطرفہ اقدامات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ایرانی صدر نے امریکا پر جارحانہ اور غیر قانونی اقدامات کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی کارروائیوں میں ایرانی طلبہ، نوجوان اور دیگر بے گناہ افراد جان سے گئے ہیں۔
پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران جانتا ہے کہ روس موجودہ صورتحال میں اس کی حمایت کررہا ہے اور اسی وجہ سے ایران بھی روس کے ساتھ کھڑا ہے۔






















































































