واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اردن میں امریکی اہلکاروں پر ایرانی حملوں کے بعد ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایرانی اہداف کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنائے گا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت، فوج اور قیادت کو پہلے ہی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا جا چکا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ امریکا دوبارہ ایران کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو کمزور کرنے کے باوجود امریکا ضرورت پڑنے پر اسے ایک بار پھر نشانہ بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے فضائی دفاعی نظام نے آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں ایک امریکی ڈرون مار گرایا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی صدر کے تازہ بیان کے بعد سامنے آیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکا کی جانب سے لارک جزیرے پر کیے گئے حملے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ متعدد ایرانی جنگجو اور شہری زخمی ہوئے۔
ایران کا کہنا ہے کہ لارک جزیرے پر حملے کے جواب میں اردن میں امریکی اڈوں اور متحدہ عرب امارات کے المنہاد فضائی اڈے پر امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
تاہم متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے المنہاد فضائی اڈے کو ایرانی حملے کا نشانہ بنائے جانے کے دعوے کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ کے میری ٹائم تجارتی آپریشنز کے مطابق عمان کے علاقے خصب کے قریب آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ایک تیل بردار جہاز کو تین نامعلوم میزائل نما اشیا سے نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حملوں، ایرانی جوابی کارروائیوں اور صدر ٹرمپ کی نئی دھمکیوں کے بعد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔






















































































