واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ H-1B ویزا رکھنے والے افراد کے بعض H-4 شریک حیات کو امریکا میں کام کرنے کی اجازت دینے والی پالیسی ختم کرنے پر غور کر رہی ہے، جس سے ہزاروں افراد کے ورک پرمٹس متاثر ہوسکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ اقدام کے ذریعے 2015 میں نافذ کیے گئے اس ضابطے کو واپس لیا جاسکتا ہے جس کے تحت اہل H-4 ویزا ہولڈرز کو امریکا میں قانونی طور پر ملازمت کرنے کے لیے ایمپلائمنٹ آتھرائزیشن ڈاکیومنٹ (EAD) حاصل کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
اگر یہ تجویز منظور ہوکر حتمی ضابطے کی شکل اختیار کرتی ہے تو H-1B نان امیگرنٹ ورکرز کے بعض زیر کفالت شریک حیات H-4 ویزا پر ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینے کے اہل نہیں رہیں گے۔
رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ تبدیلی سے بھارتی شہری سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ H-4 ورک پرمٹ حاصل کرنے والوں میں ان کی تعداد نمایاں ہے۔
2014 سے 2017 کے دوران H-4 ایمپلائمنٹ آتھرائزیشن ڈاکیومنٹ کی درخواستوں سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق منظور کیے گئے 93 فیصد ورک پرمٹس بھارتی شہریوں کو جاری کیے گئے تھے جبکہ ان میں سے 94 فیصد خواتین تھیں۔
یہ مجوزہ منصوبہ آفس آف انفارمیشن اینڈ ریگولیٹری افیئرز کے تحت Reginfo.gov پر درج کیا گیا ہے اور اسے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے طویل مدتی ضابطہ جاتی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔
تاہم اس تجویز کو باضابطہ طور پر جاری کرنے کے لیے فی الحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق تجویز کا مقصد H-1B نان امیگرنٹ ورکرز کے بعض H-4 زیر کفالت شریک حیات کو (c)(26) کیٹیگری کے تحت ملازمت کی اجازت کے لیے درخواست دینے کے اہل افراد کی فہرست سے خارج کرنا ہے۔
اس اقدام سے 2015 کے ضابطے میں کی گئی تبدیلی واپس ہوجائے گی اور وہ سابقہ پالیسی بحال ہوسکتی ہے جس کے تحت H-4 زیر کفالت شریک حیات ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینے کے اہل نہیں تھے۔
تاہم یہ منصوبہ ابھی صرف ایک تجویز ہے اور حتمی ضابطہ نہیں، اس لیے H-4 ورک پرمٹس فوری طور پر ختم نہیں ہوں گے۔
اسے نافذ کرنے سے قبل محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کو فیڈرل رجسٹر میں مجوزہ ضابطے کا باضابطہ نوٹس جاری کرنا ہوگا، عوام کو رائے اور اعتراضات جمع کرانے کا موقع دینا ہوگا اور اس عمل کے بعد حتمی ضابطہ جاری کیا جاسکے گا۔
اس وقت تک درست EAD رکھنے والے H-4 ویزا ہولڈرز موجودہ قوانین کے تحت امریکا میں کام جاری رکھ سکتے ہیں۔






















































































