واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’جھیل امریکا‘ رکھنے کے صدارتی حکم نامے پر دستخط کردیے ہیں، جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے اس فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے، جس کے تحت امریکی محکمہ داخلہ کو جھیل اونٹاریو کا نام سرکاری طور پر تبدیل کرکے ’جھیل امریکا‘ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ دوسری بڑی آبی گزرگاہ ہے جس کا نام ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اوول آفس میں حکم نامے پر دستخط کے موقع پر امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم، امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر اور وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر بھی موجود تھے۔
حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کیا جارہا ہے اور یہ تبدیلی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
امریکی صدر نے خلیج میکسیکو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج اور جھیل کا نام تبدیل کردیا گیا ہے اور اب صرف سمندر باقی ہیں۔
ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے نام بھی تبدیل کردیے جائیں۔
صدارتی حکم نامے کے تحت امریکی وزیر داخلہ ڈگ برگم اور محکمہ داخلہ کو وفاقی حکومت کے جغرافیائی ناموں کے نظام میں جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’جھیل امریکا‘ درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی حکومت کے جغرافیائی ناموں اور مقامات سے متعلق سرکاری ڈیٹا بیس میں بھی جھیل کا نیا نام شامل کیا جائے گا۔
جھیل اونٹاریو امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع ہے اور اس کے ایک جانب کینیڈا کا صوبہ اونٹاریو جبکہ دوسری جانب امریکی ریاست نیویارک واقع ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے پہلے ہی روز ’امریکی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے والے ناموں کی بحالی‘ کے عنوان سے ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیا تھا۔
اس حکم نامے کے تحت خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’خلیج امریکا‘ رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا امریکی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور ٹیرف کے معاملات پر کشیدگی جاری ہے۔
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جھیل اونٹاریو کا نام امریکا کے اعلان آزادی اور کینیڈا کی کنفیڈریشن دونوں سے بھی پرانا ہے۔
مارک کارنی نے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جھیل ہمیشہ ’جھیل اونٹاریو‘ ہی رہے گی۔






















































































