اسلام آباد: وفاقی حکومت کا پانچ سالہ نجکاری پروگرام سست روی کا شکار ہے اور دو سال گزرنے کے باوجود پہلے مرحلے کے لیے مقرر کیے گئے اہداف حاصل نہیں کیے جاسکے۔
وفاقی حکومت نے اگست 2024 میں پانچ سالہ نجکاری پروگرام 2024 سے 2029 کی منظوری دی تھی، جس کے تحت مختلف سرکاری اداروں کی مرحلہ وار نجکاری کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
ابتدائی منصوبے کے مطابق نجکاری پروگرام کو تین مراحل میں تقسیم کیا گیا اور مجموعی طور پر 24 سرکاری اداروں کو نجکاری کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔
پروگرام کے پہلے مرحلے میں ایک سال کے دوران 10 اداروں کی نجکاری کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔
تاہم دو سال گزرنے کے باوجود حکومت ان 10 اداروں میں سے صرف 2 کی نجکاری مکمل کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے۔
نجکاری مکمل ہونے والے اداروں میں فرسٹ ویمن بینک اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) شامل ہیں۔
پہلے مرحلے کے اہداف حاصل نہ ہونے کے باعث وفاقی حکومت کے اہم اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔
نجکاری پروگرام کے تحت حکومت کا مقصد سرکاری اداروں پر مالی بوجھ کم کرنے کے ساتھ ان کی کارکردگی بہتر بنانا اور معیشت میں نجی شعبے کا کردار بڑھانا ہے۔
تاہم پہلے مرحلے کی مقررہ مدت گزرنے کے باوجود 10 میں سے صرف 2 اداروں کی نجکاری مکمل ہونا پروگرام پر عمل درآمد میں نمایاں تاخیر کی نشاندہی کرتا ہے۔























































































