اسلام آباد: پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں بڑھ کر 1.28 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 3 کھرب 57 ارب 5 کروڑ روپے بنتا ہے۔
عالمی سطح پر ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث تیل اور دیگر فوسل فیول درآمد کرنے والے ممالک کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کے خام تیل کے درآمدی بل میں 56 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے جبکہ عالمی سطح پر توانائی کی اضافی لاگت کا تخمینہ 330 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
پاکستانی کرنسی میں یہ اضافی عالمی لاگت تقریباً 92 کھرب 5 ارب 35 کروڑ روپے بنتی ہے۔
سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کے مطابق ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے بعد گزشتہ 6 ماہ کے دوران فوسل فیول درآمد کرنے والے ممالک کو مجموعی طور پر تقریباً 330 ارب ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔
اعداد و شمار کے مطابق یورپی یونین کو سب سے زیادہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا، جس کا تخمینہ تقریباً 78 ارب ڈالر ہے۔
چین تقریباً 35 ارب ڈالر کے اضافی مالی بوجھ کے ساتھ دوسرے جبکہ بھارت 22 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔
عالمی توانائی منڈی میں پیدا ہونے والی صورتحال نے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے درآمدی اخراجات میں بھی اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ان ممالک کے تجارتی اور مالیاتی دباؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔























































































