نئی دہلی: امریکا کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے باوجود روس نے بھارت کو تیل کی فروخت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بھارت میں تعینات روسی سفیر ڈینس الیپوف نے امریکا کے مجوزہ ٹیرف منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پابندیاں اور ٹیرف عائد کرنے والے ممالک نے تعاون کے بجائے دباؤ ڈالنے کا راستہ اختیار کیا ہے اور اسی وجہ سے وہ بھارت کو روس سے بہتر تیل کی پیشکش نہیں کرسکتے۔
روسی سفیر نے خبردار کیا کہ اگر روسی تیل کی عالمی منڈی میں فروخت کو روکا گیا تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال توانائی کی عالمی منڈیوں کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ روس بھارت کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون اور تیل کی فراہمی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے علاقائی دفاعی تعاون سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا کہ ایران بھی بالآخر مکہ دفاعی اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔
لاوروف کا کہنا تھا کہ اگر مصر اور الجزائر مکہ معاہدے میں شامل ہوتے ہیں تو یہ بھی مثبت پیش رفت ہوگی اور روس کی جانب سے پیش کیے گئے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند نہ کی تو اس پر بھاری ٹیرف برقرار رکھے جائیں گے۔
امریکی دباؤ کے بعد ایک بھارتی کمپنی کی جانب سے روسی تیل نہ خریدنے کا فیصلہ بھی سامنے آیا تھا۔





















































































