اسلام آباد: نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق جاری بحث کے حوالے سے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا ہے کہ حکومت نے فی الحال کسی مخصوص ماڈل پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، زیر غور امکانات میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام اور اختیارات کو ضلعی و مقامی سطح پر منتقل کرنا شامل ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اس مشق کا مقصد کسی مخصوص صوبے یا خطے کو ہدف بنانا نہیں بلکہ طرز حکمرانی کو بہتر بنانا اور ریاستی انتظامی نظام کو عوام کے لیے زیادہ مؤثر اور جوابدہ بنانا ہے۔
عہدیدار کے مطابق ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ پاکستان کو مزید صوبوں کی ضرورت ہے، نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں یا اختیارات کو ضلع اور مقامی حکومتوں کی سطح تک مزید منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کسی مخصوص صوبے یا خطے کو ہدف بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، بنیادی سوال یہ ہے کہ موجودہ انتظامی نظام میں ایسی بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے جس سے بہتر طرز حکمرانی یقینی بنے اور عام شہریوں کو عملی فائدہ پہنچے۔
سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ بحث ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ حکومت کسی مخصوص ماڈل کے حوالے سے پہلے ہی ذہن بنا چکی ہے۔
ان کے مطابق مستقبل میں کسی بھی انتظامی تنظیم نو کے دوران بنیادی پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا اس سے طرز حکمرانی بہتر ہوتا ہے اور عام شہریوں کو واضح فوائد حاصل ہوتے ہیں یا نہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مزید صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق سیاسی بحث زور پکڑ رہی ہے اور وفاقی وزرا سمیت مختلف سیاسی رہنما اس معاملے پر اپنے مؤقف کا اظہار کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں اس معاملے کو عوام کے سامنے رکھنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی بھی بڑی انتظامی تنظیم نو میں بالآخر عوام کی مرضی کی عکاسی ہونی چاہیے۔ ان کے بیان کے بعد نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور ان کے قیام کے لیے آئینی طریقہ کار سے متعلق بحث میں مزید تیزی آئی۔
سینئر سرکاری عہدیدار نے کہا کہ فوری مقصد نئے صوبوں کی تعداد یا ان کی حدود کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ ایک سنجیدہ قومی بحث کا آغاز اور اس بات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کو مناسب سہولیات فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس بحث کا محور سیاسی یا علاقائی مفادات کے بجائے عوامی مفاد ہونا چاہیے۔
عہدیدار کے مطابق حکومت نے اب تک کسی مخصوص تجویز کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔ نئے صوبوں کے قیام میں آئینی معاملات اور صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے مقررہ طریقہ کار شامل ہوگا، جبکہ انتظامی تنظیم نو اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی مختلف طریقوں سے کی جاسکتی ہے اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ ملک کے آئینی نقشے میں تبدیلی کی جائے۔
حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے مؤقف سے متعلق سوال پر عہدیدار نے کہا کہ پارٹی بالآخر اسی راستے کی حمایت کرے گی جسے قومی مفاد میں سمجھا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف، مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ممکنہ مؤقف سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہی کرے گی جو پاکستان کے مفاد میں ہوگا۔
تاہم عہدیدار نے یہ واضح نہیں کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر کسی اتفاق رائے تک پہنچ چکی ہے یا نہیں۔
صدر آصف علی زرداری کے ممکنہ کردار سے متعلق سوال پر سرکاری عہدیدار نے قیاس آرائی سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں آصف علی زرداری سے ہی پوچھا جائے۔






















































































