لندن: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صوبوں کے معاملے پر بزنس فورمز کے بجائے قومی اسمبلی میں باقاعدہ بحث ہونی چاہیے، پاکستان کے تمام مسائل کا حل جمہوریت میں ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ صوبوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے، اگر موجودہ نظام ناکام ہوا ہے تو اس کی وجوہات اور ممکنہ حل پر قومی اسمبلی میں کھل کر بحث ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل کوئی ایک سیاسی جماعت نہیں نکال سکتی، قومی اور عوامی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرنا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کو اپنی رائے دینے کا حق ہے، تاہم ان کا مطالبہ ہے کہ صوبوں اور انتظامی نظام کے معاملے کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی پارلیمان میں کم آتے ہیں، انہیں بزنس فورمز کے بجائے پارلیمان میں آکر اپنی تجاویز پیش کرنی چاہئیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر نظام ناکام ہوا ہے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور اس کا حل کیا ہے، یہ تمام معاملات قومی اسمبلی میں زیر بحث آنے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ملک کی قسمت کا فیصلہ چند کاروباری شخصیات کریں، تمام سیاسی جماعتوں کو قومی اور عوامی معاملات پر شامل کیا جانا چاہیے اور نظام میں موجود مسائل پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔
آزاد کشمیر کے انتخابات سے متعلق بلاول بھٹو نے کہا کہ انہیں انتخابی عمل کے حوالے سے تحفظات ہیں اور پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمان کی کمیٹی قائم کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسے پیچھے چھوڑ کر اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ آئندہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں۔





















































































