اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کی ذمہ داری حکومت کی تھی، ہے اور رہے گی، جبکہ ان کی صحت اور علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت عمران خان کی صحت کے لیے دعا گو ہے اور پی ٹی آئی کی اپیل کے بغیر بھی انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہوئی کہ پی ٹی آئی کے ارکان عدلیہ کی تعریف کرتے رہے، تاہم یہ عجیب رویہ ہے کہ جب جج ان کے حق میں فیصلہ دیں تو عدلیہ اچھی ہوجاتی ہے اور جب فیصلہ خلاف آئے تو عدلیہ پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ آزاد ہے اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کررہی ہے۔
طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ عمران خان کی صحت کی ذمہ داری حکومت کی تھی، ہے اور مستقبل میں بھی رہے گی، جبکہ سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی صحت اور علاج سے متعلق دیے گئے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کو بھی یقین ہوگیا ہے کہ عدالتیں انصاف کررہی ہیں، ماضی میں بھی سب کو رہائی عدالتوں کے ذریعے ہی ملی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق عدالتیں ہی واحد قانونی راستہ ہیں جہاں سے کسی کی رہائی ممکن ہوسکتی ہے، جبکہ وزیراعظم کے پاس ایسا کوئی ایگزیکٹو اختیار نہیں کہ وہ عدالتی فیصلوں کے برعکس کسی کی رہائی سے متعلق اقدام کریں۔
اپوزیشن سے مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرز کا تعلق پی ٹی آئی سے نہیں، تاہم انہیں عمران خان کا اعتماد حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ اپوزیشن قیادت کو پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہونا چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت اپوزیشن قیادت سے مذاکرات کررہی ہو اور دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما مختلف بیانات دے رہے ہوں۔
طارق فضل چوہدری نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کی جانب سے اپوزیشن قیادت پر مکمل اعتماد کے اظہار کو خوش آئند قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم ایک یا دو روز میں اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب دیں گے، جس کے بعد حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ملاقات کے لیے جگہ کا تعین کیا جائے گا۔




















































































